Skip to main content
Royal Simla Club
- انگریز برِ صغیر پر قابض بن کر آئے۔ انگریزوں نے پورے ہندوستان کو کالونی بنا رکھا تھا جہاں ہندوستان کا ہر فرد اپنے ہی ملک میں دوسرے یا تیسرے درجے کا شہری تھا۔ انگریز سامراجی قوت تھے۔ اّنہوں نے ہمیشہ بغاوت کو کچلنے کے لیے اپنی فوج کو مضبوط بنائے رکھا اور انکے ذریعے ہندوستان پر حکومت کی اور ای
سے قوانین بنائے جس میں سویلین یا عام شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کر کے ان پر مقدمے چلائے جا سکتے تھے۔ وجہ صرف اور صرف قبضے میں طوالت تھی۔ انگریز چلے گئے لیکن پیچھے اپنے دیے ہوئے قانون چھوڑ گئے جنہیں مقدس اوراق کی طرح ہماری اشرافیہ نے گلے لگا رکھا یے کیونکہ وہ اب اس ملک پر قابض ہیں۔ پاکستان کی اشرافیہ سمجھتی ہے کہ انگریزوں کے بنائے قوانین اس ملک کے لیے موزوں ہیں کیونکہ یہ آزاد ملک نہیں بلکہ ابھی تک غلامانہ سوچ کا حامل ملک ہے۔ - انگریز دور میں گورنز سے لیکر اے سی ڈی سی بادشاہ تھے۔ وہ براہمن تھے اور عام شہری اچھوت۔ اّنکے گھر دیکھیے، بنگلے تھے،جو پرتعیش کئی کنال پر پھیلی عمارتیں تھی۔ جسکا مقصد عام لوگوں کو اُن تک رسائی کو مشکل بنانا اور اُنکی عزتِ نفس پامال کرنا تھا۔ یہ سب آج بھی موجود ہے اور ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے۔
- سی ایس ایس پاس افسروں سے لیکر کسی بھی محکمے یا ادارے کا افسر انگریزوں کے طرزِ حکمرانی کے مطابق خود کو فرعون اور عوام کو گھٹیا سمجھتا ہے۔ ملک آزاد ہو گیا تاہم اوپر بیٹھے اب تک سمجھ رہے ہیں کہ عوام غلام ہے اور انکی کالونی ہے۔ اکیسویں صدی ایک چوتھائی گزر گئی تاہم ہمارے ہاں نہ آقا بدلے نہ غلام۔
- #مجیب الرحمن
- x
Comments
Post a Comment